پنج

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - پانچ، چار اور ایک، (عموماً مرکبات میں بطور جزوِ اول مستعمل)۔ 'سنجاف نوگز، پنج رنگی توئی ستاروں کی کٹوریوں کی نوگز۔"      ( ١٨٩٧ء، حیاتِ صالحہ، ٤٠ ) ٢ - سات سال کی عمر کا گھوڑا، وہ گھوڑا جس کے دودھ کے دانت گر کر دو بڑے دانت نکل آئیں، جوان گھوڑا (یا گھوڑی)۔ 'جب - دانت مثل نیش کے اور نمود ہوتے ہیں - گھوڑا پنج کہلاتا ہے۔"      ( ١٨٧٢ء، رسالہ سالوتر، ٧١:١ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٠٠ء کو 'مَن لگن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پانچ، چار اور ایک، (عموماً مرکبات میں بطور جزوِ اول مستعمل)۔ 'سنجاف نوگز، پنج رنگی توئی ستاروں کی کٹوریوں کی نوگز۔"      ( ١٨٩٧ء، حیاتِ صالحہ، ٤٠ ) ٢ - سات سال کی عمر کا گھوڑا، وہ گھوڑا جس کے دودھ کے دانت گر کر دو بڑے دانت نکل آئیں، جوان گھوڑا (یا گھوڑی)۔ 'جب - دانت مثل نیش کے اور نمود ہوتے ہیں - گھوڑا پنج کہلاتا ہے۔"      ( ١٨٧٢ء، رسالہ سالوتر، ٧١:١ )

اصل لفظ: پَنج