پندار
معنی
١ - غرور، گھمنڈ۔ "زغن نے کہا یہ خیال تیرے دماغ پر کثرتِ پندار سے مستولی ہوا ہے۔" ( ١٨٣٨ء، بستان حکمت، ٤٤ ) ٢ - خودی، خود داری، انا۔ "اس خیال نے اس کے پندار کو ٹھیس لگائی۔" ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ١٥٤ ) ٣ - خیال، تصور، دانست۔ "اپنے پندار میں یہ بہت زبردست موسیقی پیدا کرتے ہیں۔" ( ١٩٤٢ء، مُذاکراتِ نیاز، ١٥٣ )
اشتقاق
فارسی میں مصدر 'پنداشتن' سے حاصل مصدر 'پندار' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٧٣ء کو "انتباہ الطالبین" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - غرور، گھمنڈ۔ "زغن نے کہا یہ خیال تیرے دماغ پر کثرتِ پندار سے مستولی ہوا ہے۔" ( ١٨٣٨ء، بستان حکمت، ٤٤ ) ٢ - خودی، خود داری، انا۔ "اس خیال نے اس کے پندار کو ٹھیس لگائی۔" ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ١٥٤ ) ٣ - خیال، تصور، دانست۔ "اپنے پندار میں یہ بہت زبردست موسیقی پیدا کرتے ہیں۔" ( ١٩٤٢ء، مُذاکراتِ نیاز، ١٥٣ )