پنڈت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عالم، فاضل؛ ہندو دھرم کے قوانین سے واقف شخص، معلم، برہمن قوم کا فرد۔  پنڈت نے اگر بنا دیا بت کو خُدا ملاّ نے خدا کو بت بنا کر چھوڑا      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٢٧٩ ) ٢ - جوتشی، نجومی، رمّال۔ "پنڈتوں نے پوتھی کھولی، کچھ انگلیوں پر شمار کیا کہا خیریت ہے۔"      ( ١٨٩١ء، بوستانِ خیال، ٢٢٧:٨ ) ٣ - ایک تعظیمی کلمہ جو عموماً اونچی ذات کے یا پڑھے لِکھے ہندوؤں کے لئے مستعمل ہے۔ "پنڈت سندر ترائن مُشران صاحب کے ان خطبات کا مجموعہ جو انہوں نے . ادبی مجلسوں میں پڑھے۔"      ( ١٩٤٢ء، خطباتِ مُشران، ریویو (١) ) ٤ - [ موسیقی ]  کمال اور دسترس کے مطابق گانے والے کا سب سے چھوٹا درجہ۔ "نائک کا درجہ فنِ موسیقی کے تما درجوں یعنی پنڈت، گنی، گندھوپ اور گاین سے بڑھ کر ہے۔"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ٢٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رَس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - جوتشی، نجومی، رمّال۔ "پنڈتوں نے پوتھی کھولی، کچھ انگلیوں پر شمار کیا کہا خیریت ہے۔"      ( ١٨٩١ء، بوستانِ خیال، ٢٢٧:٨ ) ٣ - ایک تعظیمی کلمہ جو عموماً اونچی ذات کے یا پڑھے لِکھے ہندوؤں کے لئے مستعمل ہے۔ "پنڈت سندر ترائن مُشران صاحب کے ان خطبات کا مجموعہ جو انہوں نے . ادبی مجلسوں میں پڑھے۔"      ( ١٩٤٢ء، خطباتِ مُشران، ریویو (١) ) ٤ - [ موسیقی ]  کمال اور دسترس کے مطابق گانے والے کا سب سے چھوٹا درجہ۔ "نائک کا درجہ فنِ موسیقی کے تما درجوں یعنی پنڈت، گنی، گندھوپ اور گاین سے بڑھ کر ہے۔"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ٢٢ )

اصل لفظ: پنڈت
جنس: مذکر