پنڈلی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ٹانگ کا وہ حصہ جو ٹخنے کے اوپر ہوتا ہے، ساق۔ 'باپ بھائی کے سامنے اگر منہ، سر، سینہ، باہیں، پنڈلی کھل جائیں تو کچھ حرج تو نہیں۔"      ( ١٩١٦ء، معلمہ، ٩٠ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'پنڈکا' میں 'کا' حذف کر کے لاحقۂِ تصغیر 'لی' لگانے سے 'پنڈلی' حاصل ہوا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٨٤٥ء کو "احوال الانبیا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ٹانگ کا وہ حصہ جو ٹخنے کے اوپر ہوتا ہے، ساق۔ 'باپ بھائی کے سامنے اگر منہ، سر، سینہ، باہیں، پنڈلی کھل جائیں تو کچھ حرج تو نہیں۔"      ( ١٩١٦ء، معلمہ، ٩٠ )

اصل لفظ: پِنْڈْکا
جنس: مؤنث