پنکھڑی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پھول کی پتی، برگِ گُل۔ 'پھولوں کی ایک ایک پنکھڑی اور درختوں کا ایک ایک پتہ زبردست شہنشاہ کی حکومت کا پتا دے رہے ہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ١٤٧ ) ٢ - چرخے کے چکر اور بجلی کے پنکھے کا ہر ایک پھرّا یا پَر جو اس کے منڈے میں ٹُھکا ہوتا ہے۔ 'تم نہ ہو تو میں ایسی ہوں جیسے بے پنکھڑی کا برقی پنکھا۔"      ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٢٧٦ )

اشتقاق

ہندی سے اردو میں اصل صورت اور مفہوم کے ساتھ داخل ہوا۔ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھول کی پتی، برگِ گُل۔ 'پھولوں کی ایک ایک پنکھڑی اور درختوں کا ایک ایک پتہ زبردست شہنشاہ کی حکومت کا پتا دے رہے ہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ١٤٧ ) ٢ - چرخے کے چکر اور بجلی کے پنکھے کا ہر ایک پھرّا یا پَر جو اس کے منڈے میں ٹُھکا ہوتا ہے۔ 'تم نہ ہو تو میں ایسی ہوں جیسے بے پنکھڑی کا برقی پنکھا۔"      ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٢٧٦ )

اصل لفظ: پنکھڑی
جنس: مؤنث