پنگھوڑا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہنڈولا، جھولا، بچے کو سُلانے کا گہوارہ، پالنا "میری آنکھیں تجھے آج بھی اس حالت میں دیکھ رہی ہَیں جب تو بے بس و لا چار پنگھورے میں پڑی تھی۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، نالۂ زار،٤٧ )

اشتقاق

سنسکرت میں اسم 'پرینگولنن' سے ماخوذ 'پنگھوڑا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٥١ء کو "عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہنڈولا، جھولا، بچے کو سُلانے کا گہوارہ، پالنا "میری آنکھیں تجھے آج بھی اس حالت میں دیکھ رہی ہَیں جب تو بے بس و لا چار پنگھورے میں پڑی تھی۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، نالۂ زار،٤٧ )

اصل لفظ: پرینگولنن
جنس: مذکر