پوجا

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عبادت، پرستش، پرستش کا طریقہ، (مجازاً) تعظیم و تکریم کے آداب و رسوم۔  دل میں لیکن دھیان نہیں ہے پوجا کا کچھ گیان نہیں ہے      ( ١٩٣٧ء، آہنگ، ٦٢ ) ٢ - نذر، نیاز، بھینٹ (جو دیوی دیوتا پر چڑھائی جائے)۔ (فرہنگ آصفیہ)۔ ٣ - [ مجازا ]  خدمت، سیوا، نذرانہ (جو کسی کو مجبوراً دیا جائے)۔ 'ان لال پگڑی والوں کی پوجا کرنی پڑتی ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، میدانِ عمل، ٤١ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - [ مجازا ]  خدمت، سیوا، نذرانہ (جو کسی کو مجبوراً دیا جائے)۔ 'ان لال پگڑی والوں کی پوجا کرنی پڑتی ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، میدانِ عمل، ٤١ )

اصل لفظ: پوجا
جنس: مؤنث