پود
معنی
١ - بیج سے پیدا کیے ہوئے چھوٹے پودے جو ایک جگہ سے نکال کر دوسری جگہ لگائے جاتے ہیں، بوٹا، پنیری۔ 'جب وہ کھیتی کے لیے تیار ہو جائے اور اس کے بعد اس میں پود لگائی جائے تو اس کی پیداوار اچھی ہو گی۔" ( ١٩٤٦ء، الف لیلہ و لیلہ، ٥:٧ ) ٢ - [ مجازا ] نسل، خاندان۔ 'قرآن کا مطلب اور اس کی تفسیر آج تک مسلمانوں نے نہیں سمجھی، اب یہ نئی پود مفسر ہوئی ہے۔" ( ١٩٣٢ء، ریاض خیر آبادی، نثر ریاض، ١٩٦ )
اشتقاق
ہندی سے اردو میں اصل صورت اور معنی کے ساتھ داخل ہوا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٨٦٥ء کو 'رسالہ علمِ فلاحت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بیج سے پیدا کیے ہوئے چھوٹے پودے جو ایک جگہ سے نکال کر دوسری جگہ لگائے جاتے ہیں، بوٹا، پنیری۔ 'جب وہ کھیتی کے لیے تیار ہو جائے اور اس کے بعد اس میں پود لگائی جائے تو اس کی پیداوار اچھی ہو گی۔" ( ١٩٤٦ء، الف لیلہ و لیلہ، ٥:٧ ) ٢ - [ مجازا ] نسل، خاندان۔ 'قرآن کا مطلب اور اس کی تفسیر آج تک مسلمانوں نے نہیں سمجھی، اب یہ نئی پود مفسر ہوئی ہے۔" ( ١٩٣٢ء، ریاض خیر آبادی، نثر ریاض، ١٩٦ )