پودا
معنی
١ - بوٹا، چھوٹا درخت۔ 'قاضی شہاب الدین دولت آبادی یہ پودا دلی سے لائے تھے۔" ( ١٩٤٣ء، حیاتِ شبلی، ١١ ) ٢ - پھندنا جو بلبل کی پیٹی میں باندھ دیتے ہیں۔ (نوراللغات؛ علمی اردو لغت)۔ ٣ - باگ کا وہ حصہ جسے سوار اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہیں۔ 'سردار نے پودا باگ کا لیا اور سامنے فیروز بخت کے آکر اجازت چاہی۔" ( ١٩٠٢ء، آفتاب شجاعت، ٢٢٦:١ )
اشتقاق
سنسکرت میں اسم 'پاد + پہ' سے ماخوذ 'پودا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٧٥ء کو 'کلیاتِ اکبر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بوٹا، چھوٹا درخت۔ 'قاضی شہاب الدین دولت آبادی یہ پودا دلی سے لائے تھے۔" ( ١٩٤٣ء، حیاتِ شبلی، ١١ ) ٣ - باگ کا وہ حصہ جسے سوار اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہیں۔ 'سردار نے پودا باگ کا لیا اور سامنے فیروز بخت کے آکر اجازت چاہی۔" ( ١٩٠٢ء، آفتاب شجاعت، ٢٢٦:١ )