پوشش

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - لباس، پوشاک۔ "بکری کے بال دھسوں، پتمینوں اور پوششوں میں کام آتے ہیں۔"      ( ١٩٥٤ء، حیواناتِ قرآنی، عبدالماجد، ١٢٥ ) ٢ - اوپر ڈالنے کا کپڑا، وہ چیز جو منڈ بھی جائے، غلاف، جس سے کوئی شے ڈھکی جائے۔ "اندرونی جسم ایک باریک جھلی سے ڈھکا رہتا ہے اس کو غلاف یا پوشش کہتے ہیں۔"      ( ١٩٤٢ء، حیوانیات، محشر عابدی، ١٣ ) ٣ - چھت، (چھت کا) پٹاؤ۔ "علاوہ چھوٹی پتلی سلیٹ کے جو چھت کی پوشش کے کام آتی ہے . موٹی سلیٹیں بھی ملتی ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، اشیائے تعمیر، ١٢ ) ٤ - چھپانا، ڈھانکنا۔  پردے کی تھی تلاش پئے پوشش گناہ شکر خدا کہ دامن آلِ عبا مِلا      ( ١٩٥١ء۔ آرزو لکھنو، صحفیۂ، الہام، ٧ ) ٥ - تانگے، بگھی وغیرہ کا پردہ یا غلاف، ٹپ "چودھدری کیسا سٹریل تانگا بنا رکھا ہے۔ گدا ہے تومیلا، پوشش ہے تو پھٹی ہوئی۔"      ( ١٨٧٧ء، نوبتہ النصوح، ٤١ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'پوشیدن' سے حاصل مصدر 'پوشش' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لباس، پوشاک۔ "بکری کے بال دھسوں، پتمینوں اور پوششوں میں کام آتے ہیں۔"      ( ١٩٥٤ء، حیواناتِ قرآنی، عبدالماجد، ١٢٥ ) ٢ - اوپر ڈالنے کا کپڑا، وہ چیز جو منڈ بھی جائے، غلاف، جس سے کوئی شے ڈھکی جائے۔ "اندرونی جسم ایک باریک جھلی سے ڈھکا رہتا ہے اس کو غلاف یا پوشش کہتے ہیں۔"      ( ١٩٤٢ء، حیوانیات، محشر عابدی، ١٣ ) ٣ - چھت، (چھت کا) پٹاؤ۔ "علاوہ چھوٹی پتلی سلیٹ کے جو چھت کی پوشش کے کام آتی ہے . موٹی سلیٹیں بھی ملتی ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، اشیائے تعمیر، ١٢ ) ٥ - تانگے، بگھی وغیرہ کا پردہ یا غلاف، ٹپ "چودھدری کیسا سٹریل تانگا بنا رکھا ہے۔ گدا ہے تومیلا، پوشش ہے تو پھٹی ہوئی۔"      ( ١٨٧٧ء، نوبتہ النصوح، ٤١ )

اصل لفظ: پوشیدن
جنس: مؤنث