پولا
معنی
١ - کھکّل، کھوکھلا، اندر سے خالی۔ ٢ - نرم، ملائم، پلپلا، ہلکا۔ "وہ زمین میں ہل اچھی طرح نہیں چلاتا، اوپر سے زمین کو پولا کر کے بیج ڈال دیتا۔" ( ١٩٠٤ء، محاربات عظیم، ٥٢ )
اشتقاق
سنسکرت میں لفظ 'پل' سے ماخوذ اسم 'پول' کے ساتھ لاحقۂِ صفت مذکر 'ا' ملنے سے 'پولا' حاصل ہوا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٧٤ء کو "انشائے ہادی النسا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - نرم، ملائم، پلپلا، ہلکا۔ "وہ زمین میں ہل اچھی طرح نہیں چلاتا، اوپر سے زمین کو پولا کر کے بیج ڈال دیتا۔" ( ١٩٠٤ء، محاربات عظیم، ٥٢ )