پونچھنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - (کپڑے سے گرد وغیرہ) صاف یا خشک کرنا۔  زیس کہ پونچھا ہے رخ سے بجاے اشک بار غبار سے مرا دامن ہے دامنِ کہسار      ( ١٨٨٦ء، دیوان سخن، ٣٦ ) ٢ - گیلی چیز کو (کپڑے وغیرہ سے) صاف کرنا۔  محشر میں کیا اور بھی رسوائے ندامت پوچھے مرے اشک اس نے مرے دامنِ تر سے      ( ١٩١٩ء، رعب، کلیات، ٢٠٥ ) ٣ - آلایش سے پاک کرنا۔ "کمبل کے دامن سے پیشانی کا خون پونچھ کر ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے۔"      ( ١٩٢٩ء، آمنہ کا لال، ١٠٣ )

اشتقاق

ہندی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٢٨ء کو "لازم المبتدی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - آلایش سے پاک کرنا۔ "کمبل کے دامن سے پیشانی کا خون پونچھ کر ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے۔"      ( ١٩٢٩ء، آمنہ کا لال، ١٠٣ )