پوٹ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گٹھڑی، گٹھڑ، بقچہ، بنڈل، پشتارہ۔ 'آٹے کی پوٹ اس کے سر پر رکھی اور لے چلا۔"    ( ١٨٢٤ء، سیرِ عشرت، ١١٧ ) ٢ - [ مجازا ] ڈھیر، انبار، مجموعہ۔ 'وہ کچی اینٹیں ڈھوتے جاتے تھے اور خوش ہو کر یہ شعر پڑھتے تھے - اور یہ پوٹیں مٹی کی ہیں مگر چونکہ اللہ کی راہ میں اٹھائی جاتی ہیں - ان پوٹوں سے کہیں بہتر نظر آتی ہیں۔"    ( ١٩٥٨ء، ذکرِ حبیب، ٤٣ ) ٣ - کپڑے کے تھانوں کی بندھی ہوئی بڑی بہنگی، گانٹھ، پلندا، بوغ بند، بغچہ، گٹھڑ۔ 'کپڑوں کی گٹھڑی باندھے - پوٹ لیے براجتے ہیں۔"      ( ١٨٠٣ء، پریم ساگر، ٣٨ ) ٥ - [ مجازا ]  نالی، پرنالہ، جھیل، تالاب۔  ہوئی ہے مردک مانند ماہی پپوٹے آنکھ کے پانی کی ہیں پوٹ      ( ١٩٠٥ء، داغ، یادگار داغ، ١٤٨ ) ٦ - فوارہ، سیل آب؛ گرہ۔  عرق بن کر جو لیتا ہے رخِ محبوب کے بوسے اسے پانی کی پوٹ اے دیدۂِ نمناک ہونا تھا      ( ١٨٧٣ء، کلیاتِ منیر، ٢١٨:٣ ) ٨ - پاٹ، چوڑائی۔  تر دامنی سے اپنی برابر ہے مرتبہ دریا کی پوٹ اور مرے دامن کے پاٹ کا      ( ١٨٧٣ء، دیوانِ فدا، ٦٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ 'پٹ' سے ماخوذ 'پوٹ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٠٣ء کو "پریم ساگر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گٹھڑی، گٹھڑ، بقچہ، بنڈل، پشتارہ۔ 'آٹے کی پوٹ اس کے سر پر رکھی اور لے چلا۔"    ( ١٨٢٤ء، سیرِ عشرت، ١١٧ ) ٢ - [ مجازا ] ڈھیر، انبار، مجموعہ۔ 'وہ کچی اینٹیں ڈھوتے جاتے تھے اور خوش ہو کر یہ شعر پڑھتے تھے - اور یہ پوٹیں مٹی کی ہیں مگر چونکہ اللہ کی راہ میں اٹھائی جاتی ہیں - ان پوٹوں سے کہیں بہتر نظر آتی ہیں۔"    ( ١٩٥٨ء، ذکرِ حبیب، ٤٣ ) ٣ - کپڑے کے تھانوں کی بندھی ہوئی بڑی بہنگی، گانٹھ، پلندا، بوغ بند، بغچہ، گٹھڑ۔ 'کپڑوں کی گٹھڑی باندھے - پوٹ لیے براجتے ہیں۔"      ( ١٨٠٣ء، پریم ساگر، ٣٨ )

اصل لفظ: پٹ
جنس: مؤنث