پوپلا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بے دانتوں کا، جس کے دانت گر گئے ہوں۔ "اس کے پوپلے منہ میں تو دانتوں سے چھوٹے ہوئے مسوڑھوں کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں۔"      ( ١٩٢٦ء، میری عینک، ٣٩ ) ٢ - وہ گھوڑا جس کے دانت نہ ہوں۔ 'بے دانت والے اسپ کو پوپلا کہتے ہیں۔"      ( ١٨٧٢ء، رسالہ سالوتر، ٢٨:٢ )

اشتقاق

ہندی سے اردو میں اصل اور معنی کے ساتھ داخل ہوا۔ بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٨٦٧ء کو 'نورالہدایہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے دانتوں کا، جس کے دانت گر گئے ہوں۔ "اس کے پوپلے منہ میں تو دانتوں سے چھوٹے ہوئے مسوڑھوں کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں۔"      ( ١٩٢٦ء، میری عینک، ٣٩ ) ٢ - وہ گھوڑا جس کے دانت نہ ہوں۔ 'بے دانت والے اسپ کو پوپلا کہتے ہیں۔"      ( ١٨٧٢ء، رسالہ سالوتر، ٢٨:٢ )

اصل لفظ: پوپلا
جنس: مذکر