پوچ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بیہودہ، جاہل، بے مغز، ہرزہ گو۔ 'کیا پوچ و لچر ہو اس طرح جا بجا کوئی کسی کو دھول مارتا ہے۔"      ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٢٣:٣ ) ٢ - لغو، مہمل، بے معنی، بے بنیاد، بے اصل، غیر ثابت، ضعیف اور سست (بات یا چیز وغیرہ)۔ "آپ نہایت پوچ تاویلوں سے ان صاحبوں کی حمایت کرتے ہیں۔"      ( ١٩٤٧ء، مکتوباتِ عبدالحق، ٤١٧ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں اصل صورت اور معنی کے ساتھ داخل ہوا۔ بطور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٨٠٢ء کو 'خردافروز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بیہودہ، جاہل، بے مغز، ہرزہ گو۔ 'کیا پوچ و لچر ہو اس طرح جا بجا کوئی کسی کو دھول مارتا ہے۔"      ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٢٣:٣ ) ٢ - لغو، مہمل، بے معنی، بے بنیاد، بے اصل، غیر ثابت، ضعیف اور سست (بات یا چیز وغیرہ)۔ "آپ نہایت پوچ تاویلوں سے ان صاحبوں کی حمایت کرتے ہیں۔"      ( ١٩٤٧ء، مکتوباتِ عبدالحق، ٤١٧ )

اصل لفظ: پوچ