پوچھ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - پرسش، بازپرس، استفسار، دریافت، واقفیت۔ 'فرائض کے ہوتے ہوئے نوافل کی کچھ پوچھ نہیں۔"      ( ١٨٦٥ء، مذاق العارفین، ٤٨٩:٤ ) ٢ - عزت، آؤ بھگت، قدر۔ 'اپنے مکانات کی طرف واپس جاؤ جن میں تم رہا کرتے تھے، شاید تمھارے خیال کے مطابق تمھاری کچھ پوچھ ہو۔"      ( ١٨٩٥ء، ترجمۂ قرآن، نذیر احمد، ٥١٧ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ 'پرچھا' سے ماخوذ 'پوچھ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٦٥ء کو "مذاق العارفین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پرسش، بازپرس، استفسار، دریافت، واقفیت۔ 'فرائض کے ہوتے ہوئے نوافل کی کچھ پوچھ نہیں۔"      ( ١٨٦٥ء، مذاق العارفین، ٤٨٩:٤ ) ٢ - عزت، آؤ بھگت، قدر۔ 'اپنے مکانات کی طرف واپس جاؤ جن میں تم رہا کرتے تھے، شاید تمھارے خیال کے مطابق تمھاری کچھ پوچھ ہو۔"      ( ١٨٩٥ء، ترجمۂ قرآن، نذیر احمد، ٥١٧ )

اصل لفظ: پرچھا
جنس: مؤنث