پچکنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - دبنا، پٹخ جانا، دھنسنا، بیٹھنا (کسی ابھار وغیرہ کا) بیٹھ جانا۔ 'ان میں - برتن ہیں جو پچک جاتے ہیں مگر ٹوٹتے نہیں۔"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤١٨:٣ ) ٢ - سکڑنا، سمٹنا۔  ادھر پھولتا اور پچکتا اُدھر رخ اس سمت کرتا کھسکتا اُدھر      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٢٩٧:١ ) ٣ - ربڑ کی گیند یا کھلونے وغیرہ سے ہوا نکل جانا۔ (جامع اللغات، 44:2) ٤ - پھوڑے سے پیپ نکل کر بیٹھ جانا۔ (جامع اللغات، 44:2) ٥ - (خوف یا شرم سے) دبکنا، دبنا، پیچھے کو ہٹنا۔ 'وہ اس قسم کے ہتھیاروں کا مقابلہ ہمیشہ اس اصول پر کرتا رہا ہے کہ زور کے آگے پچک جاؤ۔"      ( ١٩٢٧ء، مضامینِ عظمت، ٢٩:٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں فعل 'پچ + ک' سے ماخوذ فعل 'پچک' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت لاحقہ مصدر 'نا' لگنے سے فعل لازم بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٧ء کو 'خیابانِ آفرینش" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دبنا، پٹخ جانا، دھنسنا، بیٹھنا (کسی ابھار وغیرہ کا) بیٹھ جانا۔ 'ان میں - برتن ہیں جو پچک جاتے ہیں مگر ٹوٹتے نہیں۔"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤١٨:٣ ) ٥ - (خوف یا شرم سے) دبکنا، دبنا، پیچھے کو ہٹنا۔ 'وہ اس قسم کے ہتھیاروں کا مقابلہ ہمیشہ اس اصول پر کرتا رہا ہے کہ زور کے آگے پچک جاؤ۔"      ( ١٩٢٧ء، مضامینِ عظمت، ٢٩:٢ )

اصل لفظ: پچ+ک