پچھتاوا
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - شرمندگی، افسوس، "کچھ اس بات کا پچھتاوا نہ آئے گا کہ باپ کا حق الخدمت ادا نہ ہو سکا۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٢٣ )
اشتقاق
ہندی سے ماخوذ مصدر 'پچتانا' کا متبادل املا 'پچھتانا' سے علامت مصدر ہٹا کر 'وا' بطور لاحقہ کیفیت بڑھانے سے 'پچھتاوا' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٦٩٧ء کو "دیوان ہاشمی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - شرمندگی، افسوس، "کچھ اس بات کا پچھتاوا نہ آئے گا کہ باپ کا حق الخدمت ادا نہ ہو سکا۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٢٣ )
جنس: مذکر