پژمردہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کملایا ہوا، مرجھایا ہوا؛ افسردہ، رنجیدہ۔ 'وہ کوشش کر رہی تھی کہ میں پژمردہ نہ معلوم ہوں۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، تربیت نسواں، ٤ )

اشتقاق

فارسی میں مصدر 'پژمردن' سے صیغہ ماضی مطلق واحد غائب 'پژمرد' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقہ حالیہ تمام ملنے سے 'پژمردہ' حاصل ہوا۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو 'سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کملایا ہوا، مرجھایا ہوا؛ افسردہ، رنجیدہ۔ 'وہ کوشش کر رہی تھی کہ میں پژمردہ نہ معلوم ہوں۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، تربیت نسواں، ٤ )

اصل لفظ: پژمردن