پکوائی
قسم کلام: اسم معاوضہ
معنی
١ - پکانے کی اجرت۔ 'ایک ٹکے میں آدھ سیر کا پراٹھا ترتراتا مع - پکوائی کے آ جاتا۔" ( ١٩٢٣ء، اہلِ محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٣ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ فصل'پکنا' کی علامتِ مصدر 'نا' حذف کر کے اردو قاعدے کے تحت لاحقۂِ معاوضہ 'وائی' ملنے سے 'پکوائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٢٣ء کو 'اہل محلہ اور نا اہل پڑوسی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پکانے کی اجرت۔ 'ایک ٹکے میں آدھ سیر کا پراٹھا ترتراتا مع - پکوائی کے آ جاتا۔" ( ١٩٢٣ء، اہلِ محلہ اور نا اہل پڑوسی، ٣ )
اصل لفظ: پکو
جنس: مؤنث