پکوڑا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - تلی ہوئی (بیشتر بیسن کی) پُھولی ہوئی بڑی پھلکی، بڑی پکوڑی، (مجازاً) پُھولا ہوا۔ 'اگر ناک پکوڑا اور دانت کُھرپے ہیں تو کوئی پرواہ نہیں۔"      ( ١٩٤٧ء، قیامت ہم رکاب آئے، ٤٤ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'پکو + وٹ + کہ' سے ماخوذ 'پکوڑا' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨٠ء کو 'کلیاتِ سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تلی ہوئی (بیشتر بیسن کی) پُھولی ہوئی بڑی پھلکی، بڑی پکوڑی، (مجازاً) پُھولا ہوا۔ 'اگر ناک پکوڑا اور دانت کُھرپے ہیں تو کوئی پرواہ نہیں۔"      ( ١٩٤٧ء، قیامت ہم رکاب آئے، ٤٤ )

اصل لفظ: پکو+وٹ+کہ
جنس: مذکر