پگلا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - پاگل، باولا، سڑی، احمق، نادان، خبطی، دیوانہ۔ دیئے میرے ناصح کو اس نے خطاب وہ پگلا وہ پاگل وہ دیوانہ ہے ( ١٩٠٥ء، داغ، یادگارِ داغ، ١٧٧ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'پاگل' کی تخفیف 'پگل' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂِ صفت ملنے سے 'پگلا' حاصل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٠٥ء کو 'یادگار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: پَگل
جنس: مذکر