پھانسنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - جال میں بند کرنا، گرفتار کرنا، پکڑنا، چالاکی سے دوسرے کو بس میں کرنا، فریب سے دوسرے کو قابو میں لانا۔ "اگر حرام و حلال کوئی بحث نہ رکھتا ہو . کسی مالدار عورت کو پھانسنے کی فکر کرے۔"      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ٨١ ) ٢ - گھیرنا، گرفت میں لانا، رِجھانا۔  ہزاروں تجربوں کے بعد اب یہ عقل آئی ہے کسے تھپکے کسے گھرکے کسے چھوڑے کسے پھانسے      ( ١٩٤٧ء، سرود و خروش، ١٠٢ ) ٣ - [ مجازا ]  ورغلانا، بہکانا، دھوکا دینا۔  عورتوں کو وہ پھانس لاتے تھے ہاتھ لوگوں کے بیچ دیتے تھے      ( ١٩٣٦ء، جگ بیتی، ٩ ) ٥ - [ مجازا ]  الزام لگانا، شریک جرم گرداننا۔  پھانسا اس شیخ پرانے نے انہیں جل دے کر اس نے جب ان کو بلایا تو کہا مان لیا      ( ١٨٦٨ء، تہذیب الایمان، ٢٦٦ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ 'سپرش + آپ' سے اردو میں ماخوذ 'پھانس' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت علامتِ مصدر 'نا' ملنے سے 'پھانسنا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٤٥ء کو "احوال الانبیا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جال میں بند کرنا، گرفتار کرنا، پکڑنا، چالاکی سے دوسرے کو بس میں کرنا، فریب سے دوسرے کو قابو میں لانا۔ "اگر حرام و حلال کوئی بحث نہ رکھتا ہو . کسی مالدار عورت کو پھانسنے کی فکر کرے۔"      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ٨١ )

اصل لفظ: سپرش+آپِ