پھانک
معنی
١ - کسی پھل کا تراشا ہوا ٹکڑا، قاش۔ جو مانگو گے ایک پھل مسلم وہ کاٹ کر ایک پھانک دیں گے ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٤١٩:١ ) ٢ - نارنگی، سنگترہ وغیرہ کے پوس کی شکل کے جزو جو قدرتاً علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ "نارنگیوں کے بدلے اللہ کا نام بھیجیں کیا اپنا سر . آیا جائے زبان جو ایک پھانک بھی کھائی ہو۔" ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ٨٣ ) ٣ - [ بطور اسم مذکر (قدیم) ] پنکھڑی کہ گل لعل کے پھانک پر ریکھ یوں ہے سوتیوں تج ادھر میں شکن ہے صنابع ( ١٦١١ء، قلی قطب شاہ، کلیات، ١٥٢:٢ ) ٤ - حصہ، ٹکڑا؛ لمبی پٹی۔ "اس میں کھولتا ہوا پانی اس قدر ملا دو کہ دونوں پھانکیں چمڑے کی اس میں اچھی طرح ڈوب سکیں۔" ( ١٩٤٠ء، معدنی دباغت، ١٣٧ ) ٥ - شگاف، کٹاو، درز۔ کیا یک وار میں کئی دل کی پھانکیں لگا ہے ہاتھ کیا کامل کسی کا ( ١٧٣٩ء، کلیاتِ سراج، ١٥١ ) ٧ - بنوٹ کے ایک ہاتھ کا نام۔ (عقل و شعور، 448) "سپر کو داہنی جانب کمر کے برابر لاوے پھر سیف سے الٹی پھانک مارے۔" ( ١٨٩٨ء، قوانین حرب و ضرب، ٤٣ ) ٨ - پھانکنا کا اسم کیفیت۔ مدینے سے گیا وہ ابر سب پھانک اٹھی برسات کی چاروں طرف ہانک ( ١٧٩١ء، ہشت بہشت، ١٠٩:٧ )
اشتقاق
سنسکرت میں لفظ 'پراش + کہ' سے ماخوذ 'پھانک' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - نارنگی، سنگترہ وغیرہ کے پوس کی شکل کے جزو جو قدرتاً علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ "نارنگیوں کے بدلے اللہ کا نام بھیجیں کیا اپنا سر . آیا جائے زبان جو ایک پھانک بھی کھائی ہو۔" ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ٨٣ ) ٤ - حصہ، ٹکڑا؛ لمبی پٹی۔ "اس میں کھولتا ہوا پانی اس قدر ملا دو کہ دونوں پھانکیں چمڑے کی اس میں اچھی طرح ڈوب سکیں۔" ( ١٩٤٠ء، معدنی دباغت، ١٣٧ ) ٧ - بنوٹ کے ایک ہاتھ کا نام۔ (عقل و شعور، 448) "سپر کو داہنی جانب کمر کے برابر لاوے پھر سیف سے الٹی پھانک مارے۔" ( ١٨٩٨ء، قوانین حرب و ضرب، ٤٣ )