پھانکنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - کسی خشک چیز کو ہتھیلی میں رکھ کر منہ میں ڈالنا۔ "دوا کی دو پڑیاں بھیجی گئیں . ایک پھانکنے کی تھی اور دوسری پھوڑے پر چھڑکنے کی۔"      ( ١٩١٨ء، تندرستی، ١١٥ ) ٢ - نگلنا، بغیر چبائے کھانا، جلدی جلدی کھانا، (عموماً خشک چیز کا) پھنکا لگانا۔ "پھر دال موٹھ پھانکی بہت پیٹو تھیں اور مستقل کھا رہی تھیں۔"      ( ١٩٧٦ء، دلربا، ٢٥ ) ٤ - بھاگنا، چمپت ہونا، چھٹنا (قدیم)۔  نہ بارش ہوا کم نہ پھانکیا ابھال خلاصیاں کہے سب خلاصی محال      ( ١٦٨٢ء، رضوان شاہ و روح افزا، ١٣٢ ) ٥ - [ مجازا ]  کسی کتاب، مضمون وغیرہ کو جلدی سے پڑھ کر ختم کر دینا، بے دلی کے ساتھ یا بلامقصد پڑھنا۔  اس طرف تو نے ہسٹری رٹ لی اس طرف جا کے فلسفہ پھانکا      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٣٧١:٣ )

اشتقاق

ہندی سے اردو میں داخل ہوا اور اپنے اصل معنی میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٧٨ء کو "کلیاتِ غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی خشک چیز کو ہتھیلی میں رکھ کر منہ میں ڈالنا۔ "دوا کی دو پڑیاں بھیجی گئیں . ایک پھانکنے کی تھی اور دوسری پھوڑے پر چھڑکنے کی۔"      ( ١٩١٨ء، تندرستی، ١١٥ ) ٢ - نگلنا، بغیر چبائے کھانا، جلدی جلدی کھانا، (عموماً خشک چیز کا) پھنکا لگانا۔ "پھر دال موٹھ پھانکی بہت پیٹو تھیں اور مستقل کھا رہی تھیں۔"      ( ١٩٧٦ء، دلربا، ٢٥ )

اصل لفظ: پھانکنا