پھاٹک
معنی
١ - بڑا دروازہ۔ "اس نے محل سے باہر نکل جانا چاہا لیکن پھاٹک پر فوج متعین تھی۔" ( ١٩٧٥ء، تاریخ اسلام، ندوی، ٢٤٦:٣ ) ٢ - باڑا، احاطہ، مویشی خانہ۔ (اردو قانونی ڈکشنری؛ نوراللغات) ٣ - دروازے کے اوپر کی یا اس سے محلق بیٹھک۔ "اس پھاٹک میں ایک بانکے رہتے ہیں ذری میں ان سے مل لوں۔" ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ٤٤:١ )
اشتقاق
سنسکرت میں اسم 'سپھاٹ + کہ' سے ماخذ 'پھاٹک' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٨٠ء کو "نیرنگِ خیال" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بڑا دروازہ۔ "اس نے محل سے باہر نکل جانا چاہا لیکن پھاٹک پر فوج متعین تھی۔" ( ١٩٧٥ء، تاریخ اسلام، ندوی، ٢٤٦:٣ ) ٣ - دروازے کے اوپر کی یا اس سے محلق بیٹھک۔ "اس پھاٹک میں ایک بانکے رہتے ہیں ذری میں ان سے مل لوں۔" ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ٤٤:١ )