پھبن
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - چھب، خوبی، سج دھج، زیبائش۔ خفا ہے شان خود بینی سے کیا شوق خود آرائی اٹھائے پردہ دکھلائے تو زیور کی پھبن کوئی ( ١٩١٩ء، رعب، کلیات، ١٦٧ )
اشتقاق
ہندی سے اردو میں اصل ساخت اور مفہوم کے ساتھ داخل ہوا۔ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٧٧٢ء کو "دیوانِ فغاں" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: پھبن
جنس: مؤنث