پھوڑا
معنی
١ - (جلدی خرابی یا فسادِ خون کے باعث) جسم پر کا ابھارا جو پک کر اور پھوٹ کر زخم کی شکل اختیار کرے، دمبل، بڑی پھنسی۔ "بالوں میں جوئیں پڑ گئیں یا سر میں پھوڑے پھنسیاں ہیں۔" ( ١٩٠٦، الحقوق و الفرائض، ١٩١:١ ) ٢ - کسی درخت کا ابھرا ہوا بیرونی حصہ جو کسی بیماری کے سبب سے ہو۔ "جب درخت کے بیرونی حصہ کی جانب بیماری ظاہر ہوتی ہے تو متاثر حصہ کو پھوڑا کہتے ہیں۔" ( ١٩٠٧ء، مصرفِ جنگلات، ٩٤ )
اشتقاق
سنسکرت میں اسم 'سپھوٹکہ' سے ماخوذ اسم 'پھوڑا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (جلدی خرابی یا فسادِ خون کے باعث) جسم پر کا ابھارا جو پک کر اور پھوٹ کر زخم کی شکل اختیار کرے، دمبل، بڑی پھنسی۔ "بالوں میں جوئیں پڑ گئیں یا سر میں پھوڑے پھنسیاں ہیں۔" ( ١٩٠٦، الحقوق و الفرائض، ١٩١:١ ) ٢ - کسی درخت کا ابھرا ہوا بیرونی حصہ جو کسی بیماری کے سبب سے ہو۔ "جب درخت کے بیرونی حصہ کی جانب بیماری ظاہر ہوتی ہے تو متاثر حصہ کو پھوڑا کہتے ہیں۔" ( ١٩٠٧ء، مصرفِ جنگلات، ٩٤ )