پھٹکی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گھٹلی جو آٹے یا کسی سفوف میں (گھومتے وقت) یا دہی دودھ وغیرہ میں پڑ جاتی ہے۔ "جب آٹا ٹھیرنے پر آیا تو لگی مُکی دینے، پھٹکیاں پر گئیں"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، نشیب و فراز، ٢٧ ) ٢ - خون پا پیپ کی منجمند بوند، قطرہ، ریزہ۔ "ایک دن روئی دھنکتا ہوں تین دن داڑھی میں سے پھٹکیاں چنتا ہوں"      ( ١٩١٠ء، محمد حسین آزاد، نگارستانِ فارس، ٧٩ ) ٣ - داغ، دھبہ، نشان، چھینٹ۔ "خون کی ایک دو پھٹکیں تازہ نظر آرہی ہیں"      ( ١٩٣١ء، محمد علی، ١٢٨:٢ ) ٤ - ایک چھوٹا سا پرند۔ "کلغی والا مگس خور جسے پورب میں پھٹکی بھی کہتے ہیں زیادہ تر کیڑے مکوڑے کھاتا ہے"      ( ١٩٦٩ء، پرندے، ٢٧ ) ٥ - [ ٹھگی ]  سپر۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 178:8) ٦ - منجمند خون کی وہ شکل جو بعد کو جنین بن جاتی ہے۔  دل بے بساط ہو تو ڈرو اور ظُلم سے پھٹکی سا ہو جو خون وہ لہو کیا لہو نہیں      ( ١٨٩٥ء، خزینۂِ خیال، ١٦٦ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ 'سُھپٹ+کر' سے ماخوذ 'پھٹکی' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گھٹلی جو آٹے یا کسی سفوف میں (گھومتے وقت) یا دہی دودھ وغیرہ میں پڑ جاتی ہے۔ "جب آٹا ٹھیرنے پر آیا تو لگی مُکی دینے، پھٹکیاں پر گئیں"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، نشیب و فراز، ٢٧ ) ٢ - خون پا پیپ کی منجمند بوند، قطرہ، ریزہ۔ "ایک دن روئی دھنکتا ہوں تین دن داڑھی میں سے پھٹکیاں چنتا ہوں"      ( ١٩١٠ء، محمد حسین آزاد، نگارستانِ فارس، ٧٩ ) ٣ - داغ، دھبہ، نشان، چھینٹ۔ "خون کی ایک دو پھٹکیں تازہ نظر آرہی ہیں"      ( ١٩٣١ء، محمد علی، ١٢٨:٢ ) ٤ - ایک چھوٹا سا پرند۔ "کلغی والا مگس خور جسے پورب میں پھٹکی بھی کہتے ہیں زیادہ تر کیڑے مکوڑے کھاتا ہے"      ( ١٩٦٩ء، پرندے، ٢٧ )

اصل لفظ: سھپٹ+کر
جنس: مؤنث