پھینکنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - ڈالنا، گرانا۔  بن پڑھے خط نہ خطا وار کا تو چیر کے پھینک دیکھ کر پھینک اوراک طور سے تدبیر کے پھینک    ( ١٨٥٤ء، کلیاتِ ظفر، ٥٨:٣ ) ٢ - (قرعہ یا پانسا) ڈالنا۔ "میر صاحب نے پہلے ایک قرعہ پھینکا اور ایک کاغذ پر لکھا۔"    ( ١٩١٠ء، انقلابِ لکھنؤ، ٤٠:١ ) ٣ - پٹکنا، دے مارنا۔  لحد میں کن سے دل بہلاؤں اے شاد اجل نے کس جگہ پھینکا ہے لا کر      ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ١٥٥ ) ٤ - (گھوڑا) تیز دوڑانا۔ "دائی کو دمچی سے باندھ گھوڑا پھینکا پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھا۔"    ( ١٨٤٥ء، نغمۂ عندلیب، ١٥٨ ) ٦ - (روپیہ دولت وغیرہ) ضایع کرنا، برباد کرنا۔ پہلے کا زمانہ ہوتا تو جمعدار صاحب پندرہ روپے پاتے ہی نہ جانے کیا کیا کر ڈالتے مگر اب وہ روپیہ پھینک نہ سکتے تھے۔"      ( ١٩٥٨ء، خونِ جگر ہونے تک، ٢٣٠ ) ٧ - بکھیرنا۔  ہنس ہنس کے دل مانگا گیسو سنبھالے بڑے رنگ پھینکے بڑے جال ڈالے      ( ١٩٦٨ء، قمر جلالوی، رشک قمر، ٨٩ )

اشتقاق

پرکشیہ  پھینْک  پَھینْکْنا

مثالیں

٢ - (قرعہ یا پانسا) ڈالنا۔ "میر صاحب نے پہلے ایک قرعہ پھینکا اور ایک کاغذ پر لکھا۔"    ( ١٩١٠ء، انقلابِ لکھنؤ، ٤٠:١ ) ٤ - (گھوڑا) تیز دوڑانا۔ "دائی کو دمچی سے باندھ گھوڑا پھینکا پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھا۔"    ( ١٨٤٥ء، نغمۂ عندلیب، ١٥٨ ) ٦ - (روپیہ دولت وغیرہ) ضایع کرنا، برباد کرنا۔ پہلے کا زمانہ ہوتا تو جمعدار صاحب پندرہ روپے پاتے ہی نہ جانے کیا کیا کر ڈالتے مگر اب وہ روپیہ پھینک نہ سکتے تھے۔"      ( ١٩٥٨ء، خونِ جگر ہونے تک، ٢٣٠ )

اصل لفظ: پرکشیہ