پہرا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نگہبانی، پاسبانی۔ '- میری بیٹی تھی اور میں اس پر سخت پہرہ رکھتا تھا۔"      ( ١٩٤٣ء، الف لیلہ و لیلہ، ١٠٣:٤ ) ٢ - [ مجازا ]  وہ جگہ جہاں پہرے کے لیے سپاہی متعین ہوں، چوکی۔  پہرے پہ کھڑے تھے ہر طرف بھیل شہ زور، سیاہ رو، گراں ڈیل      ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٦٤ ) ٣ - پہرے دار، محافظ، سنتری، نگہبان، دربان۔ "فوجیں تھیں، پہرے تھے، در و دیوار سنہرے تھے۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٢٥ ) ٤ - خصوصی نگہبانی یا اعزاز کے لیے فوج یا پولیس کا دستہ۔ "مکار نے وہیں سے حکم دیا کہ پہرا محل سے ہٹ جاش۔"      ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٣، ٣٢٨ ) ٥ - پہر "ہر پہرے پر نوبت بجواتا۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٢٧٨ ) ٦ - زمانہ، وقت، دور۔ "سلطنت کے ابتدائی زمانے میں لگان کی مقدار چونکہ کم ہوتی ہے اس لیے زمینیں زیادہ اٹھتی ہیں - اور جب سلطنت کا آخری پہرا آتا ہے تو لگان کے بڑھ جانے - سے آمدنی بہت کم ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، مقدمہ تاریخ ابن خلدون، ١٨٩:٢ ) ٧ - گشت، نگہبان سپاہیوں کا دستہ۔ "پہرا پھرتا ہے - تب کہیں آپ آتے ہیں۔"      ( ١٩١٦ء، اتالیق بی بی، ٥ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ'پرہر + کہ' سے ماخوذ 'پہرا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٧٨ء کو"کلیاتِ غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نگہبانی، پاسبانی۔ '- میری بیٹی تھی اور میں اس پر سخت پہرہ رکھتا تھا۔"      ( ١٩٤٣ء، الف لیلہ و لیلہ، ١٠٣:٤ ) ٣ - پہرے دار، محافظ، سنتری، نگہبان، دربان۔ "فوجیں تھیں، پہرے تھے، در و دیوار سنہرے تھے۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٢٥ ) ٤ - خصوصی نگہبانی یا اعزاز کے لیے فوج یا پولیس کا دستہ۔ "مکار نے وہیں سے حکم دیا کہ پہرا محل سے ہٹ جاش۔"      ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٣، ٣٢٨ ) ٥ - پہر "ہر پہرے پر نوبت بجواتا۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٢٧٨ ) ٦ - زمانہ، وقت، دور۔ "سلطنت کے ابتدائی زمانے میں لگان کی مقدار چونکہ کم ہوتی ہے اس لیے زمینیں زیادہ اٹھتی ہیں - اور جب سلطنت کا آخری پہرا آتا ہے تو لگان کے بڑھ جانے - سے آمدنی بہت کم ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، مقدمہ تاریخ ابن خلدون، ١٨٩:٢ ) ٧ - گشت، نگہبان سپاہیوں کا دستہ۔ "پہرا پھرتا ہے - تب کہیں آپ آتے ہیں۔"      ( ١٩١٦ء، اتالیق بی بی، ٥ )

اصل لفظ: پرہر+کہ
جنس: مذکر