پہچان

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - شناخت، پرکھ۔  اغیار و یار کی مجھے پہچان کیا رہے سب سے ترے خیال نے بیگانہ کر دیا      ( ١٩١٥ء، جان سخن، ٤ ) ٢ - واقفیت، شناسائی (بیشتر جان کے ساتھ)؛ معرفت، آگاہی۔  اب آپ ہوئے تم پانی سے، مت پانی کا نقصان کرو کچھ لابھ نہیں ہے جینے میں، اب مرنے سے پہچان کرو      ( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ١٩٧:٢ ) ٤ - علامت، نشانی۔ "مرد نے اس کو پہلے نہ دیکھا ہو اور نہ کسی نے اس کی پہچان بتلائی ہو۔"      ( ١٨٦٦ء، تہذیب البیان، ٤٧١ ) ٥ - تاثر، چھاپ۔ "اور جو ہمارے جذبات پر اثرانداز ہوتے ہیں یعنی "تنسیخ" اور پہچان دراصل پلاٹ ہی کے حصے ہیں۔"      ( ١٩٧٥ء، ارسطو سے ایلیٹ تک، ٩٨ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ 'پرت + کشان' سے ماخوذ 'پہچان' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو "فرس نامۂ رنگین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - علامت، نشانی۔ "مرد نے اس کو پہلے نہ دیکھا ہو اور نہ کسی نے اس کی پہچان بتلائی ہو۔"      ( ١٨٦٦ء، تہذیب البیان، ٤٧١ ) ٥ - تاثر، چھاپ۔ "اور جو ہمارے جذبات پر اثرانداز ہوتے ہیں یعنی "تنسیخ" اور پہچان دراصل پلاٹ ہی کے حصے ہیں۔"      ( ١٩٧٥ء، ارسطو سے ایلیٹ تک، ٩٨ )

اصل لفظ: پرت+کشان
جنس: مؤنث