پہیا

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - گاڑی کا چاک جس کے زمین پر چلنے سے گاڑی آگے بڑھتی ہے۔ "بطور گول تختہ کے پہیا لڑھیا کا سپاٹ ہوتا ہے۔"      ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعات، ٢٩ ) ٢ - مدور پایہ جس کے بل کوئی چیز حرکت کرے۔ "ایک فیٹ لوہا بچھایا جاوے یا ایک پہیہ گھڑا جاوے۔"      ( ١٨٩٣ء، بست سالہ عہدِ حکومت، ٨٣ ) ٣ - چکر، چرخی، (مجازاً) طرز، طریقہ۔ "مشین کے ڈیڑھ سو سال گزرنے کے بعد بھی ہم نے بدھ مت کے پیروؤں کی طرح کوئی عبادت کا پہیہ ایجاد نہیں کیا ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ١٦٩ )

اشتقاق

ہندی میں اسم 'پَیا' سے ماخوذ 'پہیا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٥١ء کو "نوادرالالفاظ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گاڑی کا چاک جس کے زمین پر چلنے سے گاڑی آگے بڑھتی ہے۔ "بطور گول تختہ کے پہیا لڑھیا کا سپاٹ ہوتا ہے۔"      ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعات، ٢٩ ) ٢ - مدور پایہ جس کے بل کوئی چیز حرکت کرے۔ "ایک فیٹ لوہا بچھایا جاوے یا ایک پہیہ گھڑا جاوے۔"      ( ١٨٩٣ء، بست سالہ عہدِ حکومت، ٨٣ ) ٣ - چکر، چرخی، (مجازاً) طرز، طریقہ۔ "مشین کے ڈیڑھ سو سال گزرنے کے بعد بھی ہم نے بدھ مت کے پیروؤں کی طرح کوئی عبادت کا پہیہ ایجاد نہیں کیا ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ١٦٩ )

اصل لفظ: پیا
جنس: مذکر