پیار
معنی
١ - الفت، محبت، پریم، التفات۔ پیار سے دشمن کے وہ عالم ترا جاتا رہا ایسے لب چومے کہ بوسوں کا مزا جاتا رہا ( ١٨٦٥ء، نسیم دہلوی، دیوان، ٨٦ ) ٢ - پوشیدہ جذبۂ محبت، اخلاص۔ اپنی بھی کچھ خیر نہیں آئینہ دیکھیے وہ کیا ہوا جو آنکھوں میں پیار تھا ( ١٩٥٤ء، صفی اورنگ آبادی، دیوان، (قلمی نسخۂ)، ١٥ ) ٣ - مہربانی، شفقت، کرم، عنایت۔ سبھوں کو بوسے دیئے ہنس کے اور ہمیں گالی ہزار شکر بھلا اس قدر تو پیار ہوا ( ١٨٣٠ء، نظیر اکبر آبادی، کلیات، ٣ )
اشتقاق
سنسکرت میں اسم 'پریا + آل' سے ماخوذ 'پیار' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔