پیاسا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - تشنہ، جسے پانی پینے کی خواہش ہو۔ "جنگِ احد میں پیاسے کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ١٩٤:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  مُشتاق، آرزو مند۔ "میری پیاسی آنکھوں کو آخری وقت آپ کے مزارِ پرانوار کا دیدار بھی نصیب نہ ہو سکا۔"      ( ١٩٤٠ء، فاطمہ کا لال، ٩٣ ) ٣ - [ مجازا ]  حاجت مند، غرض مند، ضرورت مند، خواہش مند۔ "وہ پیاسے تم ہو کہ کنواں تمھارے پاس آئے تو تمھاری پیاس بجھے۔"      ( ١٨٩٢ء، لکچروں کا مجموعہ، ٣١٦:١ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'پیاس' کے ساتھ لاحقۂ صفت مذکر 'ا' ملنے سے 'پیاسا' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تشنہ، جسے پانی پینے کی خواہش ہو۔ "جنگِ احد میں پیاسے کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ١٩٤:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  مُشتاق، آرزو مند۔ "میری پیاسی آنکھوں کو آخری وقت آپ کے مزارِ پرانوار کا دیدار بھی نصیب نہ ہو سکا۔"      ( ١٩٤٠ء، فاطمہ کا لال، ٩٣ ) ٣ - [ مجازا ]  حاجت مند، غرض مند، ضرورت مند، خواہش مند۔ "وہ پیاسے تم ہو کہ کنواں تمھارے پاس آئے تو تمھاری پیاس بجھے۔"      ( ١٨٩٢ء، لکچروں کا مجموعہ، ٣١٦:١ )

اصل لفظ: پری+آل
جنس: مذکر