پیدا
معنی
١ - ظاہر، آشکارا، نمایاں۔ ہر صبحِ وطن میں ہے نہاں شام غربیاں ہر خندۂِ پیدا میں ہے اک گریہۂَ پہناں ( ١٩٤١ء، عرش و فرش، ١٢٧، ) ٢ - میسر، دستیاب، موجود۔ بے نظیری میں نظیر اسکا نہ پیدا تھا کہیں ذرہ اس خاک کا تھا غیرت خورشید مبیں ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دل فریب، ٦ ) ٣ - پیدائشی، جنا ہوا، مقولا۔ یہیں کے پیدا یہیں کی رنگت یہیں کی بولی یہیں کا کھانا تو پھر تغاوت ہو کیوں سُروں میں ہر ایک کو بہتر ہے دیس گانا ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٤٠٩:٣ ) ٤ - اُگا ہوا۔ بہوت تھے جھاڑ گھر کے گردپیدا نہایت سایہ دار اور بار پیرا ( ١٧٥٩ء، راگ مالا، ٣ ) ١ - کمائی، آمدنی، حاصل، یافت۔ "بے فکر ہو کر اس کی پیدا سے بغراغت اپنی گزران کریں" ( ١٨٠٣ء، گنجِ خوبی، ٨٠ ) ٢ - ایجاد، اختراع (جامع اللغات)۔
اشتقاق
فارسی سے اردو میں اصل صورت و معنی کے ساتھ داخل ہوا۔ بطور صفت اور گا ہے بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٥٩ء، کو "راگ مالا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کمائی، آمدنی، حاصل، یافت۔ "بے فکر ہو کر اس کی پیدا سے بغراغت اپنی گزران کریں" ( ١٨٠٣ء، گنجِ خوبی، ٨٠ )