پیراستہ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - سجا ہوا، آراستہ، مزین۔ "یاقوت، ہیرا، نیلم، پکھراج، زمرد، لعلِ بدخشاں سے ہر در و دیوار پیراستہ ہے۔" ( ١٨٥٩ء، سروش سخن، ٣٢ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'پیراستن' سے صیغہ ماضی مطلق واحد غائب 'پیراست' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقہ حالیہ تمام ملنے سے 'پیراستہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٥٩ء کو "سروشِ سخن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سجا ہوا، آراستہ، مزین۔ "یاقوت، ہیرا، نیلم، پکھراج، زمرد، لعلِ بدخشاں سے ہر در و دیوار پیراستہ ہے۔" ( ١٨٥٩ء، سروش سخن، ٣٢ )
اصل لفظ: پیراستن