پیرانہ
قسم کلام: صفت نسبتی
معنی
١ - بوڑھے کی طرح۔ (نوراللغات) ٢ - مرشدانہ، پِیروں کا سا۔ "جب عورتیں آپ کے پیرانہ اثر میں آگئیں تو آپ ایک دن رات کے تین بجے اس مقام سے فرار ہوگئے" ( ١٩٣٣ء، زندگی، ٢٠١ )
اشتقاق
فارسی سے ماخوذ صفت 'پیر' کے 'انَہ' بطور لاحقہ نسبت ملنے سے 'پیرانہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٣٣ء کو "زندگی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - مرشدانہ، پِیروں کا سا۔ "جب عورتیں آپ کے پیرانہ اثر میں آگئیں تو آپ ایک دن رات کے تین بجے اس مقام سے فرار ہوگئے" ( ١٩٣٣ء، زندگی، ٢٠١ )
اصل لفظ: پیر