پیرایہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - طرز، روش، ڈھنگ، انداز۔ "میں نے بات کا پیرایہ بدل دیا۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، خونی راز، ١٣٦ ) ٢ - آرائش، زینت، زیور، لباس۔ "شاہ بیگ عنفوان جوانی سے پیرایہ علم و ادب سے آراستہ تھا۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٢٢:٤ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'پیراستن' سے ماخوذ 'پیرایہ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ (قلمی نسخہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طرز، روش، ڈھنگ، انداز۔ "میں نے بات کا پیرایہ بدل دیا۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، خونی راز، ١٣٦ ) ٢ - آرائش، زینت، زیور، لباس۔ "شاہ بیگ عنفوان جوانی سے پیرایہ علم و ادب سے آراستہ تھا۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٢٢:٤ )

اصل لفظ: پیراستن
جنس: مذکر