پیرو
معنی
١ - قدم بہ قدم چلنے والا، نشانِ قدم پر قدم رکھنے والا۔ نہ بھٹکا کفر کی ظلمت سے جو پیرو ہوا تیرا چراغ راہ ایمان بن گیا ہر نقشِ پا تیرا ( ١٩١٢ء، ریاض شمیم، ١٩١:٧ ) ٢ - (کسی کے) حکم پر چلنے والا، اتباع کرنے والا، (کسی کا) مرید، معتقد، مقلد۔ "اس کے جتنے پیرو زندہ ملے قتل کیے گئے۔" ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١٤٣:٣ ) ٣ - عمل کرنے والا، عمل پیرا ہونے والا۔ "جو شخص بلائے کسی کو طرف گمراہی کے ہو گا اس پر گناہ، گناہ پیرو کے گناہوں کے برابر۔" ( عجالۂ ہادیہ، ٢٨ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں اپنے معنی و مفہوم کے ساتھ داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ (قلمی نسخہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - (کسی کے) حکم پر چلنے والا، اتباع کرنے والا، (کسی کا) مرید، معتقد، مقلد۔ "اس کے جتنے پیرو زندہ ملے قتل کیے گئے۔" ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١٤٣:٣ ) ٣ - عمل کرنے والا، عمل پیرا ہونے والا۔ "جو شخص بلائے کسی کو طرف گمراہی کے ہو گا اس پر گناہ، گناہ پیرو کے گناہوں کے برابر۔" ( عجالۂ ہادیہ، ٢٨ )