پیری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بُڑھاپا، ضعیفی، کہن سالی۔ "صبح سے مُراد انسان کا زمانہ کم سنی، دوپہر عہدِ شباب، اور شام عالمِ پیری ہے"      ( ١٩٦٥ء، ہماری پہلیاں، ٢٩ ) ٢ - مُرید یا چیلا بنانے کا پیشہ، رشدو ہدایت کا کام (بیشتر مریدی کے ساتھ مستعمل)۔ "اس گروہ میں کچھ . پیری مریدی کرتے ہیں اور کچھ مسئلے مسائل بیان کرتے ہیں"      ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٢٨٢:١ ) ٣ - استادی، چالاکی، عیاری (عموماً چلنا کے ساتھ)۔ "مرد اس کے بہت دشمن تھے مگر کے ساتھیوں کی بہاردی کے مقابلے کسی کی پیروی نہیں چلتی تھی"      ( ١٩٤٤ء، الف لیلہ و لیلہ، ٦:٥ ) ٥ - کمزوری، ناتوانی۔  رکھتا ہے دل تاب وتواں تو کروڑ کی پیری میں بھی جواں ہے محمد علی جناح      ( ١٩٤٠ء، روزنامہ، منشور، ٣١ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم صفت 'پیر' کے ساتھ لاحقۂ نسبت 'ی' ملنے سے 'پیری' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بُڑھاپا، ضعیفی، کہن سالی۔ "صبح سے مُراد انسان کا زمانہ کم سنی، دوپہر عہدِ شباب، اور شام عالمِ پیری ہے"      ( ١٩٦٥ء، ہماری پہلیاں، ٢٩ ) ٢ - مُرید یا چیلا بنانے کا پیشہ، رشدو ہدایت کا کام (بیشتر مریدی کے ساتھ مستعمل)۔ "اس گروہ میں کچھ . پیری مریدی کرتے ہیں اور کچھ مسئلے مسائل بیان کرتے ہیں"      ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٢٨٢:١ ) ٣ - استادی، چالاکی، عیاری (عموماً چلنا کے ساتھ)۔ "مرد اس کے بہت دشمن تھے مگر کے ساتھیوں کی بہاردی کے مقابلے کسی کی پیروی نہیں چلتی تھی"      ( ١٩٤٤ء، الف لیلہ و لیلہ، ٦:٥ )

اصل لفظ: پیر
جنس: مؤنث