پیشاب
معنی
١ - موت، بول، قارورہ۔ "مرشد جس وقت موتنے کو جاویں تو ان سے عرض کرنا وہ تھوڑا سا پیشاب مجھے دے دیں گے" ( ١٩٣١ء، رسوا، خورشید بہو، ٩٣ ) ٢ - [ مجازا ] نطفہ، صلب۔ "میں اپنے باپ کے پیشاب سے نہیں اگر اس بدتمیزی کا مزا تمہیں نہ چکھا دوں" ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں اصل صورت اور مفہوم کے ساتھ داخل ہوا۔ بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٤٢١ء کو "شکار نامہ بحوالہ و شہباز، سکھر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - موت، بول، قارورہ۔ "مرشد جس وقت موتنے کو جاویں تو ان سے عرض کرنا وہ تھوڑا سا پیشاب مجھے دے دیں گے" ( ١٩٣١ء، رسوا، خورشید بہو، ٩٣ ) ٢ - [ مجازا ] نطفہ، صلب۔ "میں اپنے باپ کے پیشاب سے نہیں اگر اس بدتمیزی کا مزا تمہیں نہ چکھا دوں" ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات )