پیشہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہنر یا فن، روزگار جو کسبِ معاش کا ذریعہ ہو، دھندا، حرفہ، کاروبار، کسب۔ پرتگیزوں کو دیکھو، پیشہ کرتے ہیں اپنا گھر بھرتے ہیں"      ( ١٩٠١ء، راقم، عقد ثریا، ١١١ ) ٢ - کام، شغل، مشغلہ، عمل۔  رہتی ہے یہ مستعد ہمیشہ چستی چالاکی اس کا پیشہ      ( ١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ٤٠ ) ٣ - طوائف پنا، طوائف کا پیشہ اختیار کرنے کی حالت۔ "پہلے تو خیال آیا کہ پوچھے اس نے پیشہ کیوں شروع کیا"      ( ١٩٤٧ء، قیامت ہمر کاب آئے، ٥٦ ) ٤ - مذکورہ بالامعنی میں بطور لاحقہ تراکیب میں مستعمل۔ "ایک تو وکالت پیشہ آدمی پھر سیاست پیشہ بھی ہونا چاہتے تھے"      ( ١٩٥٨ء، خونِ جگر ہونے تک، ٣١ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہنر یا فن، روزگار جو کسبِ معاش کا ذریعہ ہو، دھندا، حرفہ، کاروبار، کسب۔ پرتگیزوں کو دیکھو، پیشہ کرتے ہیں اپنا گھر بھرتے ہیں"      ( ١٩٠١ء، راقم، عقد ثریا، ١١١ ) ٣ - طوائف پنا، طوائف کا پیشہ اختیار کرنے کی حالت۔ "پہلے تو خیال آیا کہ پوچھے اس نے پیشہ کیوں شروع کیا"      ( ١٩٤٧ء، قیامت ہمر کاب آئے، ٥٦ ) ٤ - مذکورہ بالامعنی میں بطور لاحقہ تراکیب میں مستعمل۔ "ایک تو وکالت پیشہ آدمی پھر سیاست پیشہ بھی ہونا چاہتے تھے"      ( ١٩٥٨ء، خونِ جگر ہونے تک، ٣١ )

اصل لفظ: پیشہ
جنس: مذکر