پیما

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - جزو دوم کے طور پر مترادف : طے کرنے والا، پہنچنے والا، رسائی پانے والا وغیرہ جیسے اوج پیما، کوہ پیما، دشت پیما۔ "ایک شب و روز کے قریب مسافت پیما ہو کر جہاز بندر سعید پہنچ گیا۔"      ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ١١٧ )

اشتقاق

فارسی مصدر'پیمودن' سے فعل امر 'پیما' اردو میں بطور لاحقۂ فاعلی ترکیبات میں جزو ثانی کے مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٥١ء کو"عجائب القصص" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جزو دوم کے طور پر مترادف : طے کرنے والا، پہنچنے والا، رسائی پانے والا وغیرہ جیسے اوج پیما، کوہ پیما، دشت پیما۔ "ایک شب و روز کے قریب مسافت پیما ہو کر جہاز بندر سعید پہنچ گیا۔"      ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ١١٧ )

اصل لفظ: پیمودن