پیٹھ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بدن کا پیچھے کا حصہ، پشت، پچھایا۔ "جب دونوں گھوڑے بڑے رو میں ہوتے تو وہ اچک کر ایک کی پیٹھ سے دوسرے کی پیٹھ پر چلا جاتا۔"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہدِ وسطی کی ایک جھلک، ٩٩ ) ٢ - پیچھے، عقب۔ "دریا پاس جب پہنچے دیکھے پانی بڑے جوش میں ہے اور پیٹھ سے آ پہنچا۔"      ( ١٨٦٠ء، فیض الکریم، تفسیر قرآن العظیم، ٢٧ ) ٤ - کسی چیز کا اوپری یا بیرونی حصہ۔ "ان جانوروں کی دُم نہیں ہوتی - انگلیوں کی پیٹھ کے طرف جوڑ پر سہارا دیتے ہیں۔"      ( ١٩١٠ء، مبادی سائنس، ٢٥ ) ٥ - پیڑھی، نسل، پشت۔ "تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں اور ان کی نسلوں سے عہد لیا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبی، ٢٠٢:٤ ) ٦ - صلب (مرد کی پیٹھ میں مادۂ منویہ کا گوشہ)۔ "ان کی پیٹھوں سے ان کی نسلوں کو باہر نکالا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٦٠:١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اسم 'پرشٹھ' سے ماخوذ 'پِیٹھ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بدن کا پیچھے کا حصہ، پشت، پچھایا۔ "جب دونوں گھوڑے بڑے رو میں ہوتے تو وہ اچک کر ایک کی پیٹھ سے دوسرے کی پیٹھ پر چلا جاتا۔"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہدِ وسطی کی ایک جھلک، ٩٩ ) ٢ - پیچھے، عقب۔ "دریا پاس جب پہنچے دیکھے پانی بڑے جوش میں ہے اور پیٹھ سے آ پہنچا۔"      ( ١٨٦٠ء، فیض الکریم، تفسیر قرآن العظیم، ٢٧ ) ٤ - کسی چیز کا اوپری یا بیرونی حصہ۔ "ان جانوروں کی دُم نہیں ہوتی - انگلیوں کی پیٹھ کے طرف جوڑ پر سہارا دیتے ہیں۔"      ( ١٩١٠ء، مبادی سائنس، ٢٥ ) ٥ - پیڑھی، نسل، پشت۔ "تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں اور ان کی نسلوں سے عہد لیا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبی، ٢٠٢:٤ ) ٦ - صلب (مرد کی پیٹھ میں مادۂ منویہ کا گوشہ)۔ "ان کی پیٹھوں سے ان کی نسلوں کو باہر نکالا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٦٠:١ )

اصل لفظ: پرشٹھ
جنس: مؤنث