پیپ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ طب ]  جاندار کے جسم میں سفید جسیمے بہت بڑی تعداد میں ہلاک ہو جاتے ہیں ان کے ٹوٹنے پھوٹنے میں جو مادہ بنتا ہے اِسے پیپ کہتے ہیں یہ سفید زردی مائل کبھی کبھی سیاہ عموماً رقیق کسی بھی پھوڑے پھنسی زخم (کان، ناک، دانت) سے خارج ہوتا ہے۔ مادہ، مواد، ریم، راد، رطوبت۔ "اگر ناسور کھلا ہوا ہو تو اس کو نچوڑ کر پیپ نکالو۔"      ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ١٥ )

اشتقاق

ہندی میں لفظ'پیب' سے ماخوذ 'پیپ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٩٠ء "ترجمۂ قرآن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ طب ]  جاندار کے جسم میں سفید جسیمے بہت بڑی تعداد میں ہلاک ہو جاتے ہیں ان کے ٹوٹنے پھوٹنے میں جو مادہ بنتا ہے اِسے پیپ کہتے ہیں یہ سفید زردی مائل کبھی کبھی سیاہ عموماً رقیق کسی بھی پھوڑے پھنسی زخم (کان، ناک، دانت) سے خارج ہوتا ہے۔ مادہ، مواد، ریم، راد، رطوبت۔ "اگر ناسور کھلا ہوا ہو تو اس کو نچوڑ کر پیپ نکالو۔"      ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ١٥ )

اصل لفظ: پیب
جنس: مؤنث