پیچھا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عقب، پشت، پیٹھ کی سمت۔ "آئین جنگ کے بموجب امرائے شاہی آگا، پیچھا، دایاں، بایاں سنھبال کر کھڑے ہوئے"      ( ١٨٨٣ء، دربارِ اکبری، ١٨ ) ٢ - پچھلا حصّہ۔  وہ گھوڑا جس کا پیچھا ہو نکھونٹا تبرگوں ہے مقرر نام اس کا      ( ١٧٩٥ء، فرس نامہ رنگین، ٧ ) ٣ - لباس کا پچھلا حصّہ۔ "یہ درزی پہلے آگا پیچھا، کلیاں، چوبغلے، آستین، پر ہر ایک چیز کا اندازہ کر لیتا ہے تب قطع کرتا ہے"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ نثرِ اردو، ١٩٦:١ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ 'پکشج +کہ' کا ماخوذ 'پیچھا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو "فرس نامہ رنگین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقب، پشت، پیٹھ کی سمت۔ "آئین جنگ کے بموجب امرائے شاہی آگا، پیچھا، دایاں، بایاں سنھبال کر کھڑے ہوئے"      ( ١٨٨٣ء، دربارِ اکبری، ١٨ ) ٣ - لباس کا پچھلا حصّہ۔ "یہ درزی پہلے آگا پیچھا، کلیاں، چوبغلے، آستین، پر ہر ایک چیز کا اندازہ کر لیتا ہے تب قطع کرتا ہے"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ نثرِ اردو، ١٩٦:١ )

اصل لفظ: پکشج+کہ
جنس: مذکر