پیچیدگی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مڑوڑ، بل۔      "صوت کو دیگر کیفیات بھی عارض ہوتی ہیں یعنی زیری و لمبی پیچیدگی، آخری کیفیت گرانیِ گلو کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے"     رجوع کریں:   ( ١٩٣٨ء، آئینِ اکبری (ترجمہ)، ١، ١٨٥:١ ) ٢ - الجھاو، دقت، مشکل۔ "اکثر اشعار میں جو تعقید اور پیچیدگی رہ جاتی ہے۔ اس کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ مضمون کا کوئی ضروری جزو چھوٹ جاتا ہے"      ( ١٩١٢ء، شعر العجم، ٨٥:٤ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'پیچیدن' سے حلیہ تمام 'پیچیدہ' میں 'ہ' حذف کرکے لاحقہ کیفیت 'گی' ملنے سے 'پیچیدگی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٩٩ء کو "رویاے صادقہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مڑوڑ، بل۔      "صوت کو دیگر کیفیات بھی عارض ہوتی ہیں یعنی زیری و لمبی پیچیدگی، آخری کیفیت گرانیِ گلو کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے"     رجوع کریں:   ( ١٩٣٨ء، آئینِ اکبری (ترجمہ)، ١، ١٨٥:١ ) ٢ - الجھاو، دقت، مشکل۔ "اکثر اشعار میں جو تعقید اور پیچیدگی رہ جاتی ہے۔ اس کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ مضمون کا کوئی ضروری جزو چھوٹ جاتا ہے"      ( ١٩١٢ء، شعر العجم، ٨٥:٤ )

اصل لفظ: پیچیدن
جنس: مؤنث