پیڑ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - درخت، پودا، جھاڑ۔ "ایسا پیڑ ہوتا ہے کہ ہوائی چڑیا آ کے اس کی ڈالیوں میں بسیرا کریں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٧٤٦:٣ )

اشتقاق

سنسکرت میں اسم 'پتری' سے ماخوذ 'پیڑ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "ابراہیم نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - درخت، پودا، جھاڑ۔ "ایسا پیڑ ہوتا ہے کہ ہوائی چڑیا آ کے اس کی ڈالیوں میں بسیرا کریں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٧٤٦:٣ )

اصل لفظ: پتری
جنس: مذکر