پیڑا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - روٹی بنانے کو گندھے ہوئے آٹے کی لوئی یا گنبدی گول بنائی ہوئی لگدی ( جو روٹی بنانے کے وقت توڑ توڑ کر خشکی میں رکھی جاتی ہے۔ "دوپیڑے میں نے چھپائے ہیں، خشکی نہ اڑانا، ہلکا پھلکا پکانا"      ( ١٨٩٢ء، طلسم ہوشربا، ٥٨١:٢ ) ٢ - کھوئے اور شکر کے امتزاج سے بنی ہوئی ٹکیا کی شکل کی مٹھائی۔ "ان میں پاو بھر کھوے کا پیڑا، اوپر سے ایک ریشمی رومال بندھا تھا"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٤١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اسم 'پنڈکہ' سے ماخوذ 'پیڑا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "اخوان الصفا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روٹی بنانے کو گندھے ہوئے آٹے کی لوئی یا گنبدی گول بنائی ہوئی لگدی ( جو روٹی بنانے کے وقت توڑ توڑ کر خشکی میں رکھی جاتی ہے۔ "دوپیڑے میں نے چھپائے ہیں، خشکی نہ اڑانا، ہلکا پھلکا پکانا"      ( ١٨٩٢ء، طلسم ہوشربا، ٥٨١:٢ ) ٢ - کھوئے اور شکر کے امتزاج سے بنی ہوئی ٹکیا کی شکل کی مٹھائی۔ "ان میں پاو بھر کھوے کا پیڑا، اوپر سے ایک ریشمی رومال بندھا تھا"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٤١ )

اصل لفظ: پنڈکہ
جنس: مذکر